يُونُسُ ، وَحُسَيْنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، مُضارِب بن حَزْن العِجلي ، مِرْثَدَ بْنَ ظَبْيَانَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عن مُضارِب بن حَزْن العِجلي قَالَ: وَجَدْتُ مِرْثَدَ بْنَ ظَبْيَانَ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا وَجَدْنَا لَهُ كَاتِبًا يَقْرَؤُهُ عَلَيْنَا، حَتَّى قَرَأَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ" مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مرثد سے مروی ہے کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط آیا تو ہمیں کوئی پڑھا لکھا آدمی نہیں مل رہا تھا جو ہمیں وہ خط پڑھ کر سناتا بالآخر بنوضبیعہ کے ایک آدمی نے وہ خط پڑھ کر سنایا جس کا مضمون یہ تھا کہ اللہ کے رسول کی طرف سے بکر بن وائل کی طرف اسلام قبول کرلو سلامتی پاجاؤگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20667]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن