عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أيوب ، ابْنِ سِيرِينَ ، الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ منهم أيوب ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَدِدْتُ أَنِّي أَلْقَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ، قَالَ: فَلَقِيَهُ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ أَمَا عَلِمْتَ، أَوَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ"؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی نافرمانی نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے فرمایا کہ میں آپ کو یہی حدیث یاد کرانا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20661]
الحكم: إسناده صحيح