حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ: قَالَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ، فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ، فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا، فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس شخص کو اس رزق میں سے کچھ حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں کشادگی کرے اور اگر اس کو اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20648]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، عامر الأحول لم يدرك عائذا
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، عامر الأحول لم يدرك عائذا