هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ضَمْرَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، كَثِيرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ، حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، قَالَ: فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: " مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ" يُرَدِّدُهَا مِرَارًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس وقت " جیش عسرہ " (غزوہ تبوک) کی تیاری کررہے تھے تو حضرت عثمان غنی ایک کپڑے میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور لا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں ڈال دیئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ آج کے دن ابن عفان کوئی بھی عمل کریں وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہ جملہ آپ نے کئی مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20630]
الحكم: إسناده حسن