إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَسَعَيْتُ أَنْظُرُ مَا حَدَثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَإِذَا هُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا میں نے اپنے تیروں کو ایک طرف پھینکا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دوڑ پڑا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کسوف شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح وتحمید اور تحمید اور تہلیل وتکبیر اور دعاء میں مصروف تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تک اسی عمل میں مصروف رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا پھر آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 913
الحكم: إسناده صحيح، م: 913