مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، وَيَزِيدُ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، مِحْجَنُ بْنُ الْأَدْرَعِ ، حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ، مِحْجَنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ , وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، قَالَ مِحْجَنُ بْنُ الْأَدْرَعِ :" بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، ثُمَّ عَرَضَ لِي وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا، فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ , فَقَالَ:" وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَوْمَ يَدَعُهَا أَهْلُهَا" قَالَ يَزِيدُ:" كَأَيْنَعِ مَا تَكُونُ" قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَتَهَا؟ قَالَ:" عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعُ" , قَالَ:" وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا تَلَقَّاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ مُصْلِتًا" , قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي، قَالَ:" أَتَقُولُهُ صَادِقًا؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا فُلَانٌ، وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ: أَكْثَرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً , قَالَ: " لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمْ الْيُسْرُ" , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے۔ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردوگے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20347]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عبدالله بن شقيق لم يسمعه من محجن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عبدالله بن شقيق لم يسمعه من محجن