أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، سَلْمٌ يَعْنِي ابْنَ زَرِيرٍ ، وَأَبُو الْأَشْهَبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ يَعْنِي ابْنَ زَرِيرٍ , وَأَبُو الْأَشْهَبِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی تھی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20269]
الحكم: إسناده حسن