بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19992
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19992
حدیث نمبر: 19992 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسيَنٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا حُسيَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَوْ غَيْرِهِ: أَنَّ حُصَيْنًا أَوْ حَصِينًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ، كَانَ يُطْعِمُهُمْ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي" , قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكَ، فَقُلْتَ لِي:" قُلْ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي" , فَمَا أَقُولُ الْآنَ؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حصین نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ سے بہتر اپنی قوم کے لئے تو عبدالمطلب تھے، وہ لوگوں کو جگر اور کوہان کھلایا کرتے تھے اور آپ ان ہی کو ذبح کردیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مناسب جواب دیا، اس نے کہا کہ آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کام پر پختگی عطاء فرما۔ وہ شخص چلا گیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ آیا اور کہا کہ پہلے میں آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے یہ کہنے کے لئے فرمایا تھا کہ اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کا پر پختگی عطاء فرما، اب میں کیا کہا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اب تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ! میرے پوشیدہ اور علانیہ، غلطی سے اور جان بوجھ کر، واقف ہو کر یا نادان ہو کر سرزد ہونے والے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (19991) باب پر واپس اگلی حدیث (19993) →