إِسْمَاعِيلُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَتْحَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ: " صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں فتح کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھارہ دن تک رہے، میں بھی ان کے ساتھ تھا لیکن لوگوں کو دو دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے اور اہل شہر سے فرما دیتے کہ تم اپنی نماز مکمل کرلو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19878]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: صلوا أربعا فإنا سفر ، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: صلوا أربعا فإنا سفر ، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد