عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ، وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارُ؟ قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19461]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالوهاب بن عطاء توبع
الحكم: حديث صحيح، عبدالوهاب بن عطاء توبع