مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَمْرٍو بْنِ الشَّرِيدِ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ الرَّجُلَ رَاقِدًا عَلَى وَجْهِهِ، لَيْسَ عَلَى عَجُزِهِ شَيْءٌ، رَكَضَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: " هِيَ أَبْغَضُ الرِّقْدَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی آدمی کو چہرے کے بل اس طرح لیٹے ہوئے دیکھتے کہ اس کی سرین پر کچھ نہ ہوتا تو اسے پاؤں سے ٹھوکر مارتے اور فرماتے اللہ کے نزدیک لیٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19458]
حکم دارالسلام
مرفوعه حسن لغيره، وهذا اسناد مرسل
الحكم: مرفوعه حسن لغيره، وهذا اسناد مرسل