هُشَيْمٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ قَالَ هُشَيْمٌ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي فِي الْإِسْلَامِ بِأَمْرٍ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، قَالَ: " قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ"، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا أَتَّقِي؟" فَأَوْمَأَ إِلَى لِسَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجئے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کرو کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو میں نے عرض کیا کہ میں کس چیز سے بچوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کردیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19431]
الحكم: إسناده صحيح