سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ، قَالَ:" وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا، اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے (اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو اور یہ نکاح صحیح نہیں ہے) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا، نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلا دیا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا، میں دائیں جانب سے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 88
الحكم: إسناده صحيح، خ: 88