بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19396
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19396
حدیث نمبر: 19396 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هُشَيْمٌ ، الشَّيْبَانِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، زَائِدَةَ ، الشَّيْبَانِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، فَقَالَا: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ، وَأَبَا بُرْدَةَ، يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ، وَيَقُولَانِ: هَلْ كُنْتُمْ تُسَلِّفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُسَلِّفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ. فَقُلْتُ: عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ، أَوْ: عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ؟ فَقَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَا لِي: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَاسْأَلْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى ، وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: وَالزَّيْتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہرضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا کہ ابن شداد اور ابوبردہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں گندم جو اور زیتون کی ادھاربیع کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں! ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں مال غنیمت حاصل کرکے گندم، جو کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں، ان سے ادھاربیع کرلیا کرتے تھے میں نے ان سے پوچھا جس کے پاس کھیت ہوتا تھا یا جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہم یہ بات ان سے نہیں پوچھتے تھے پھر ان دونوں حضرات نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں اور ان میں جو کچھ ہے الٹادو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2242
← پچھلی حدیث (19395) باب پر واپس اگلی حدیث (19397) →