مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، خَالِدٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْخَفَّافِ ، عَطِيَّةَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ خَالِدٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْخَفَّافِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى السَّمْعَ مَتَى يُؤْمَرُ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں کس طرح نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے اپنے منہ صور سے لگا رکھا ہے پیشانی جھکا رکھی ہے اور کان متوجہ کر رکھے ہیں کہ کب اسے حکم ہوتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ بات سن کر بہت سخت معلوم ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہتے رہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے کہ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19345]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية وخالد الخفاف، وقد اختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية وخالد الخفاف، وقد اختلف فيه