بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19325
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19325
حدیث نمبر: 19325 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْمُغِيرَةِ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَأَنَا أَسْمَعُ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ: وَادِي خُمٍّ، فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ، قَالَ فَخَطَبَنَا، وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةِ سَمُرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَوَ لَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے ہم نے " غدیرخم " کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، کچھ دیر بعد " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی دو درختوں کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جگہ تیار کردی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ، اے اللہ! جو علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19325]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبيد، ولضعف ميمون أبى عبدالله
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبيد، ولضعف ميمون أبى عبدالله
← پچھلی حدیث (19324) باب پر واپس اگلی حدیث (19326) →