أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ؟ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ، وَالْمَشْرَبِ، وَالشَّهْوَةِ، وَالْجِمَاعِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ، فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضَمُرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابوالقاسم! کیا آپ کا یہ خیال نہیں ہے کہ جنتی جنت میں کھائیں پئیں گے؟ اس نے اپنے دوستوں سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا اقرار کرلیا تو میں ان پر غالب آکر دکھاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کیوں نہیں ہر جنتی کو کھانے، پینے، خواہشات اور مباشرت کے حوالے سے سو آدمیوں کے برابرطاقت عطاء کی جائے گی، اس یہودی نے کہا کہ پھر اس کھانے پینے والے کو قضاء حاجت کا مسئلہ بھی پیش آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قضاء حاجت کا طریقہ یہ ہوگا کہ انہیں پسینہ آئے گا جوان کی کھال سے بہے گا اور اس سے مشک کی مہک آئے گی اور پیٹ ہلکا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19269]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لأن الأعمش مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لأن الأعمش مدلس، وقد عنعن