يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهما، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي غَدًا عَلَى الْحَوْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے جیسے فلاں شخص کو عہدہ عطاء کیا ہے مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں دیتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میرے بعدترجیحات کا سامنا کرو گے، اس وقت تم صبر کرنا یہاں تک کہ کل مجھ سے حوض کوثر پر آملو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7057، م: 1845
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7057، م: 1845