مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْجَنَّةُ" قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" إِلَّا الدَّيْنَ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے جبرائیل نے بتائی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19077]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن