يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَوْرٍ ، رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ القَرَّ"، وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ، أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ، أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ؟ قَالُوا: قَالَ:" مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے عظیم ترین دن دس ذی الحجہ پھر آٹھ ذی الحجہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے قربانی کے لئے پانچ چھ اونٹوں کو پیش کیا گیا جن میں سے ہر ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے اسے ذبح کریں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں ذبح کرچکے تو آہستہ سے ایک جملہ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا تو اس نے وہ جملہ بتایا کہ جو چاہے کاٹ لے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19075]
الحكم: إسناده صحيح