عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الصُّنَابِحِيّ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيّ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً حَسَنَةً، فَغَضِبَ وَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الصَّدَقَةِ، فَسَكَتَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک بھرپور اونٹنی دیکھی تو غصے سے فرمایا یہ کیا ہے؟ متعلقہ آدمی نے جواب دیا کہ میں صدقات کے کنارے سے دو اونٹوں کے بدلے میں اسے واپس لایا ہوں، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19066]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف، وهذا إسناد اختلف فيه على قيس بن أبى حازم، ومجالد ضعيف
الحكم: حديث ضعيف، وهذا إسناد اختلف فيه على قيس بن أبى حازم، ومجالد ضعيف