أَبُو سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ، وَمَنْ غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ، وَمَنْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ شَعَرِ أُذُنَيْهِ، وَمَنْ غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ تَحْتَ أَظْفَارِهِ، ثُمَّ كَانَتْ خُطَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اس کے منہ اور ناک کے گناہ جھڑجاتے ہیں جو چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پلکوں کے گناہ تک جھڑجاتے ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو سر اور کانوں کے بالوں کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر مسجد کی طرف اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ زائد ہوتے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19064]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد مرسل قوي، ابو عبدالله تابعي
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد مرسل قوي، ابو عبدالله تابعي