بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19060
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19060
حدیث نمبر: 19060 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، ثَابِتٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال عبد الله: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ، فَأُتِيَ بِرَجُلٍ ضَخْمٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ:" فَأَيْنَ الدِّبَاغُ؟" فَلَمَّا وَلَّى، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک بھاری بھرکم آدمی کو لایا گیا اس نے کہا اے ابوعیسیٰ! انہوں نے فرمایا جی جناب! اس نے کہا کہ پوستین کے بارے میں آپ نے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بتائیے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! کیا میں پوستین میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو دباغت کہاں جائے گی؟ جب وہ چلا گیا تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19060]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى: وهو محمد بن عبدالرحمن ضعيف، وقد تفرد به، واختلف عليه فيه، ومن أوهامه أنه سمي الرجل الذى سأل النبى صلى الله عليه و آله وسلم سويد بن غفلة، والصحيح أن سويدا تابعي كبير
الحكم: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى: وهو محمد بن عبدالرحمن ضعيف، وقد تفرد به، واختلف عليه فيه، ومن أوهامه أنه سمي الرجل الذى سأل النبى صلى الله عليه وسلم سويد بن غفلة، والصحيح أن سويدا تابعي كبير
← پچھلی حدیث (19059) باب پر واپس اگلی حدیث (19061) →