مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، مَاعِزٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مَاعِزٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، ثُمَّ الْجِهَادُ، ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ماعز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک اللہ پر ایمان لانا، پھر جہاد، پھر حج مبرور تمام اعمال میں اس طرح افضل ہیں جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19010]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى مسعود الجريري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى مسعود الجريري