وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيُّ ، جَعْدَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيُّ ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: جَعْدَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى لِرَجُلٍ رُؤْيَا، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَجَاءَ، فَجَعَلَ يَقُصُّهَا عَلَيْه، وَكَانَ الرَّجُلُ عَظِيمَ الْبَطْنِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ: " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا، لَكَانَ خَيْرًا لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جعدہ سے مروی ہے کہ نبی نے ایک آدمی کے متعلق کوئی خواب دیکھا تو اسے بلا بھیجا، وہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سامنے وہ خواب بیان کیا، اس آدمی کا پیٹ بہت بڑھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے پیٹ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور انگلی چبھو کر فرمایا کہ اگر یہ اس کے علاوہ میں ہوتا تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18984]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو إسرائيل مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو إسرائيل مجهول