عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ . قَالَ عبد الله ابن أحمد: وَحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا، فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: " إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ ؛ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت فرات بن حیان سے مروی ہے کہ نبی نے ان کے قتل کا حکم جاری کردیا کیونکہ وہ ابوسفیان کے جاسوس اور حلیف تھے، فرات کا گذر انصار کے ایک حلقے پر ہوا تو انہوں نے کہہ دیا کہ میں مسلمان ہوں، انہوں نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہہ دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ تو کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض آدمی ایسے ہیں جن کی قسم پر ہم اعتماد کر کے انہیں ان کی قسم کے حوالے کردیتے ہیں، ان ہی میں فرات بن حیان بھی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18965]
الحكم: إسناده صحيح