قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال: عبد الله بن أحمد: وَكَتَبَ بِهِ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ : مَا أَدْرَكْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ وَهُوَ غُلَامٌ حَدِيثٌ، قَالَ:" جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِنَا يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ، قَالَ: فَجِئْنَا، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، وَجَلَسَ إِلَيْهِ النَّاسُ، قَالَ فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَجْلِسَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان کے نانا یعنی حضرت عبداللہ بن ابی حبیبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کون سا واقعہ یاد رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے تھے ہم بھی اور دوسرے لوگ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر بیٹھ گئے کچھ دیر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے رہے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اس دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18951]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالله بن أبى حبيبة
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالله بن أبى حبيبة