عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، صُهَيْبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ لَأَِمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، لَيْسَ ذَلِكَ لأَِحَدٍ إِلَاَ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، وَكَانَ خَيْرًا، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، وَكَانَ خَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے تو مسلمانوں کے معاملات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس کے معاملے میں سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ سعادت مومن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے جو کہ اس کے لئے سراسر خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی سراسر خیر ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2999
الحكم: إسناده صحيح، م: 2999