بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18915
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18915
حدیث نمبر: 18915 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِي ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، عَمْرَو ابْنَ عَوْفٍ الْأنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِي ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو ابْنَ عَوْفٍ الْأنْصَارِيَّ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو کہ غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے " سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا تاکہ وہاں سے جزیہ وصول کرکے لائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل بحرین سے صلح کرلی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر بنادیا تھا چناچہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ حضرت مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے، انصار کو جب ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نماز فجر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہ سامنے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرا پڑے اور فرمایا شاید تم نے ابوعبیدہ کی واپسی اور ان کے کچھ لے آنے کی خبر سنی ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جس سے تم خوش ہوجاؤگے واللہ مجھے تم پر فقر و فاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کردی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی اور تم اس میں ان ہی کی طرح مقابلہ بازی کرنے لگوگے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3158، م: 2961
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3158، م: 2961
← پچھلی حدیث (18914) باب پر واپس اگلی حدیث (18916) →