أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أُمِّ بَكْرٍ ، الْمِسْوَرِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، قَالَ: مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقَالَ: ارْفَعْ أَوْ اكْشِفْ ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ، قَالَ: " فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی میرے پاس سے گذرا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو فرما رہے تھے اس نے کہا کہ ان کا کپڑا ان کی پشت پر سے ہٹادو میں ہٹانے کے لئے آگے بڑھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے منہ پر پانی کا چھینٹادے مارا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18908]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الجهالة حال أم بكر
الحكم: إسناده ضعيف الجهالة حال أم بكر