وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، يَعْقُوبَ ابْنِ بَحِيرٍ ، ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَعْقُوبَ ابْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ بِلَقْحٍة إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا، ثُمَّ قَالَ: " دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ" . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: لَا تُجْهِدَنَّهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے گھر والوں نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاٍس بھیجا، میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کا دودھ دوہنے کا حکم دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کرسکو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18905]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير