أَبُو أَحْمَدَ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَتَمَضْمَضَ، فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور ڈول میں کلی کردی، پھر اس ڈول کو کنوئیں میں الٹا دیا یا ڈول میں سے پانی پی کر کنوئیں میں کلی کردی جس سے وہ کنواں مشک کی طرح مہکنے لگا اور ڈول سے ہٹا کر ناک صاف کی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18874]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عبدالجبار لم يسمع من أبيه، بينهما أهله ، ولا تضر جهالتهم
الحكم: حديث حسن، عبدالجبار لم يسمع من أبيه، بينهما أهله ، ولا تضر جهالتهم