يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ الْقَائِلُ؟" قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَرَدْتُ إِلَاّ الْخَيْرَ، فَقَالَ: " لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَمْ يُنَهْنِهََّا دُونَ الْعَرْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی دوران نماز ایک آدمی کہنے لگا الحمدللہ کثیراً طیبا مبارکا فیہ " نماز سے فراغت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ! میں نے کہے تھے اور صرف خیر ہی کے ارادے سے کہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کلمات کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے اور عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز انہیں روک نہ سکی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18860]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه