بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18322
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18322
حدیث نمبر: 18322 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا وَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ الْأَرْضَ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ، وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسُ" . وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، چناچہ تمام مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اور زمین پر ہاتھ مار کر اپنے ہاتھ اٹھائے لیکن مٹی نہیں اٹھائی اور اپنے چہروں اور کندھوں تک ہاتھوں پر انہیں پھیرلیا اسی طرح ہاتھوں کے باطنی حصے پر بغلوں تک اسے پھیرلیا لہٰذا لوگ اس میں شکوک کا شکار نہ ہوں اور ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18322]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقوله: ولا يغتر بهذا الناس، من كلام الزهري
الحكم: حديث صحيح، وقوله: ولا يغتر بهذا الناس، من كلام الزهري
← پچھلی حدیث (18321) باب پر واپس اگلی حدیث (18323) →