قُرَانٌ ، سَعِيدٌ الشَّيْبَانِيُّ أَبُو سِنَانٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ
حَدَّثَنَا قُرَانٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الشَّيْبَانِيُّ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَأُخْرِجَ بِجِنَازَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا، تَلَقَّانَا خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَكِلَاهُمَا قَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، فَقَالَا: سَبَقْتُمُونَا بِهَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ كَانَ بِهِ بَطْنٌ، وَأَنَّهُمْ خَشُوا عَلَيْهِ الْحَرَّ، قَالَ: فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ" ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک نیک آدمی فوت ہو یا ان کے جنازے کو باہر لایا گیا واپسی پر ہماری ملاقات حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے ہوگئی یہ دونوں حضرات صحابی تھے انہوں نے فرمایا کہ اس نیک آدمی کا جنازہ ہمارے آنے سے پہلے ہی تم لوگوں نے پڑھ لیا لوگوں نے عرض کیا کہ یہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہوا تھا گرمی کی وجہ سے لاش کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو دیکھ کر کہا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جو شخص پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرے اسے قبر میں عذاب نہیں ہوگا؟ دوسرے نے کہا کیوں نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18312]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه سعيد الشيباني
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه سعيد الشيباني