إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ فِي بَنِي سَلِمَةَ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَكَانَ إِذَا دُعِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِاسْمٍ مِنْ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا، قَالَ: " فَنَزَلَتْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! یہ نام اس کو ناپسند ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو۔ " [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن صحت صحبة أبى جبيرة بن الضحاك ، وإلا فمرسل
الحكم: إسناده صحيح إن صحت صحبة أبى جبيرة بن الضحاك ، وإلا فمرسل