بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18262
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18262
حدیث نمبر: 18262 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ" . يَعْنِي: الذِّكْرَ. قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا، قَالَ: " لَا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً" . قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ، وَلَيْسَ مَعِي مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحَهُ بِالْمَرْوَةِ وَالْعَصَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت ') تھا جو اس نے پالیا میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتا ہوں جسے میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو میں نے عرض کیا کہ اگر میں اپنا کتا شکار پر چھوڑوں، وہ شکار کو پکڑ لے لیکن میرے پاس اسے ذبح کرنے کے کوئی چیز نہ ہو تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر اور لاٹھی کی دھار سے ذبح کرسکتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو اور اس پر اللہ کا نام لے لو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18262]
حکم دارالسلام
قوله: "ان اباك اراد امراً فأدركه" حسن، وقوله: "أمر الدم بما شئت...." صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مري بن قطري
الحكم: قوله: "ان اباك اراد امراً فأدركه" حسن، وقوله: "أمر الدم بما شئت...." صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مري بن قطري
← پچھلی حدیث (18261) باب پر واپس اگلی حدیث (18263) →