يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا . قَالَ وَكِيعٌ: عَنْ عَامِرٍ ، وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ" . وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ. قَالَ وَكِيعٌ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَكُلْ"، فَقَالَ:" وَمَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْهُ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا آخَرَ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے مارا ہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے ماراہو وہ موقوذہ (چوٹ سے مرنے والے جانور) کے حکم میں ہے پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتے کے ذریعے شکار کے متعلق دریافت کیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اسے کھاسکتے ہو) اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو کیونکہ اس کا پکڑناہی اسے ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس دوسرے کتے نے شکار کو پکڑا اور قتل کیا ہوگا تو تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کے کتے پر نہیں لیا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1929
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5475، م: 1929