بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18193
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18193
حدیث نمبر: 18193 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ سِيرِينَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، رَفَعَهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَمَزَ ظَهْرِي، أَوْ كَتِفِي بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، قَال: وَتَبِعْتُهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَعِي سَطِيحَةٌ مِنْ مَاءٍ، " فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَرَفَعَ الْجُبَّةَ عَلَى عَاتِقِهِ، وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ، قَالَ: وَذَكَرَ النَّاصِيَةَ بِشَيْءٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا، فَأَدْرَكْنَا الْقَوْمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَؤُمُّهُمْ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ، فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ رَكْعَةً، وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دورچلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! اور یہ کہہ کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18193]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 182، م: 274
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 182، م: 274
← پچھلی حدیث (18192) باب پر واپس اگلی حدیث (18194) →