أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، شُعْبَةُ ، عُبَيْدًا
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ضَرَبَتْهَا امْرَأَةٌ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَقَتَلَتْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ بِالدِّيَةِ، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ" . فَقَالَ: عَصَبَتُهَا أَنْدِي مَنْ لَا طَعِمَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ، فَاسْتَهَلَّ، مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ:" سَجْعٌ مِثْلُ سَجْعِ الْأَعْرَابِ". وقَالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُ عُبَيْدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1682
الحكم: إسناده صحيح، م: 1682