عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ:" لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ" ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْح .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور سر اور موزوں پر مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے موزے اتار نہ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے یہ وضو کی حالت میں پہنے تھے پھر میں انہیں اتار کر نہیں چلا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر کی نماز اسی طرح پڑھ لی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18141]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 182، م: 274، مجالد ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، مجالد ضعيف، لكنه توبع