بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18096
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18096
حدیث نمبر: 18096 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ لِآخَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ، قَالَ: لَا تَقُلْ هَذَا، فَإِنَّهُ لَوْ سَمِعَهَا، كَانَ لَهُ أَرْبَعُ أَعْيُنٍ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ سورة الإسراء آية 101، قَالَ: " لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تُدْلُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لَا تَعْتَدُوا فِي السَّبْتِ" ، فَقَالاَ: نَشْهَدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ! اس نبی کے پاس چل کر اس آیت کے متعلق ان سے پوچھتے ہیں کہ " ہم نے موسیٰ کو نوواضح نشانیاں دی تھیں " اس نے کہا کہ انہیں نبی مت کہو کیونکہ اگر انہوں نے یہ بات سن لی ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی، بہرحال! انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ چوری مت کرو، زنا مت کرو، کسی ایسے شخص کو ناحق قتل مت کرو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو، جادو مت کرو، سود مت کھاؤ کسی نے بےگناہ کو کسی طاقتور کے پاس مت لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کردے کسی پاکدامن پر بدکاری کی تہمت نہ لگاؤ (یا یہ فرمایا کہ میدان جنگ سے راہ فراراختیار نہ کرو) اور اے یہودیو! تمہیں خصوصیت کے ساتھ حکم ہے کہ ہفتہ کے دن کے معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرو . یہ سن کر وہ دونوں کہنے لگے کہ ہم آپ کے نبی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18096]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، علته عبدالله بن سلمة
الحكم: إسناده ضعيف، علته عبدالله بن سلمة
← پچھلی حدیث (18095) باب پر واپس اگلی حدیث (18097) →