حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، أَيُّوبَ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى، فَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ عَرَضَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مُرْدِفًا ابْنَةً لَهُ جَمِيلَةً، وَكَانَ يُسَايِرُهُ، قَالَ: فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا، ثُمَّ أَعَدْتُ النَّظَرَ , فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، وَأَنَا لَا أَنْتَهِي ," فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کر لے آیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے باتوں میں مشغول ہو گیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا، میں نے دوبارہ اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر میرے چہرے کا رخ بدل دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا لیکن میں باز نہ آتا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1805]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281.