بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18024
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18024
حدیث نمبر: 18024 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا، فَهُوَ يَعْمَلُ بِهِ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِ هَذَا، عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ". قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ. وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا، فَهُوَ يَخْبِطُ فِيهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ، وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مَالٌ مِثْلُ هَذَا، عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ" قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کی مثال چار قسم کی آدمیوں کی سی ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18024]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من أبى كبشة، وفي موضع آخر تصريح سالم بالسماع، وهو غير محفوظ
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من أبى كبشة، وفي موضع آخر تصريح سالم بالسماع، وهو غير محفوظ
← پچھلی حدیث (18023) باب پر واپس اگلی حدیث (18025) →