مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَمِّهِ ، مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ: سَهْلُ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا، قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ: ثُبَيْتَةَ ابْنَةَ الضَّحَّاكِ، يُرِيدُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا فَقُلْتُ: أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفْعَلُ هَذَا؟! قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سہل بن ابی حثمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کو دیکھ رہے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں، پھر بھی ایک نامحرم کو دیکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر اللہ کسی شخص کے دل میں کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجنے کا خیال پیدا کریں تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17976]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن سليمان، والحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، واختلف فيه عليه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن سليمان، والحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، واختلف فيه عليه