يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَبُو مَعْبَدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ ، رَوْحٌ ، وَالبُرْسَانِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ غَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا:" عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ" وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا، قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ"، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ، وَقَالَ رَوْحٌ , وَالبُرْسَانِيُّ : عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ، وَقَالَا: حِينَ دَفَعُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذارنے کے بعد جب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اطمینان اور سکون اختیار کرو۔“ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جا سکے،“ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1794]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1282.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1282.