عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خالد بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو بن مانگے اور بن متوجہ ہوئے اپنے بھائی سے کوئی اچھائی تو اسے قبول کرلینا چاہئے، اسے رد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اس کا رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17936]
الحكم: إسناده صحيح