بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 17889
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 17889
حدیث نمبر: 17889 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، أَبِي رَمْلَةَ ، مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي رَمْلَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ أَوْ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً. قَالَ: تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟" قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا. قَالَ:" هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور فرما رہے تھے اے لوگو! ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے، راوی نے پوچھا جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے؟ ابن عون کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا جواب دیا، بہرحال! انہوں نے خود ہی فرمایا یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ: ابتداء میں زمانہ جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی، اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا تھا، بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدا الاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17889]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى رملة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى رملة
← پچھلی حدیث (17888) باب پر واپس اگلی حدیث (17890) →