سفيانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عاصمٍ ، حَفْصه ، الرَّباب ، سَلْمانَ بنِ عامر الضَّبّي
حدثنا سفيانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عن عاصمٍ ، عن حَفْصه ، عن الرَّباب ، عن عَمَّها سَلْمانَ بنِ عامر الضَّبّي ، عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم، قال: " ليُفْطِرْ يعنى أَحَدكم على تَمْرٍ، فإنْ لم َيجِدْ فِلْيُفْطِرْ على ماءٍ فإنَّه طَهورٌ" . " ومع الغلام عقيقته، فأميطوا عنه الأذى، وأريقوا عنه دمًا" . " والصدقة على ذي القرابة ثنتان: صدقة وصلة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے روزہ افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے، لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے، ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17873]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: ليفطر.....فانه طهور ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب
الحكم: حديث صحيح دون قوله: ليفطر.....فانه طهور ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب