عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي قَبِيلٍ ، أَبِي مَيْسَرَةَ ، الْعَبَّاسِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ , عَنِ الْعَبَّاسِ , قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ:" انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا تَرَى؟" , قَالَ: قُلْتُ: أَرَى الثُّرَيَّا، قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ، اثْنَيْنِ فِي فِتْنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھئے، آسمان میں آپ کو کوئی ستارہ نظر آتا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”کون سا ستارہ نظر آتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ثریا، فرمایا: ”تمہاری نسل میں سے اس ثریا ستارے کی تعداد کے برابر لوگ اس امت کے حکمران ہوں گے جن میں سے دو آزمائش کا شکار ہوں گے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1786]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، لثلاث علل.
الحكم: إسناده ضعيف جداً، لثلاث علل.